The State of Baloch IDPs


hum sheri
بگٹی مہاجرین کسمپرسی کی حالت میں

قبیلے کے اندرونی اختلافات نے صورت حال مزید پیچیدہ کر دی ہے

ملک سراج اکبر

آٹھ سالہ شکیل بگٹی کو ابھی تک مارچ 2005ء کی وہ رات بخوبی یاد ہے جب اس کے والدین نے اسے نیند سے بیدار کر کے مطلع کیا کہ وہ سوئی (ضلع ڈیرہ بگٹی) میں واقع اپنا گھربار چھوڑ کر ایک ایسی منزل کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں جس کے بارے میں خود انھیں بھی وثوق سے کچھ پتہ نہیں تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ والدین نے اسے گھر بار چھوڑنے کی محض ایک وجہ بتائی کہ ان کے علاقے میں ”جنگ“ چھڑ گئی ہے اور اب ان کا وہاں رہنا محال ہو گیا ہے۔ شکیل کا گھرانہ کسی دور میں علاقے میں اپنی خوشحالی کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔ گھر کے بڑے اراکین پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) میں نوکری کر کے گھر کا خرچہ چلاتے تھے اور شکیل خود پی پی ایل کے زیر اہتمام اسکول میں زیر تعلیم تھا۔ اپنے علاقے سے نقل مکانی کرنے والوں میں شکیل کے گھرانے کے ساتھ ساتھ علاقے کے کوئی تیس اور گھرانے بھی شامل تھے۔

شکیل نے نیند کے عالم میں جو سفر شروع کیا تھا وہ تین دن تک جاری رہنے کے بعد قریبی ضلع جعفرآباد میں ختم ہوا۔ یہ ایک انتہائی کٹھن اور تکلیف دہ سفر تھا۔ اس وقت ان کا پورا گھرانہ جعفر آباد ضلع میں مری فارم کے علاقے میں جھونپڑیوں میں رہ رہا ہے۔ سندھ اور بلوچستان کی سرحد پر واقع اس علاقے کا شمار جنوبی ایشیا کے گرم ترین علاقوں میں ہوتا ہے۔ تاہم ان مہاجرین کے پاس اس میدان میں ڈیرے ڈالنے کے سوا کوئی اور چارہ بھی تو نہیں ہے۔ یہاں ان کے لیے زندگی ڈیرہ بگٹی کے مقابلے میں یکسر مختلف ہے۔ گرمیوں میں شدید گرمی کے باعث مہاجرین کے بچے لو لگنے کی وجہ سے شدید بیمار ہو جاتے ہیں اور علاج معالجے کا اس علاقے میں دور دور تک کوئی انتظام نہیں ہے۔

مری فارم کے عارضی محلے میں نقل مکانی کرنے والے بگٹی قبائلیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک ”جھونپڑی سکول“ قائم کیا ہے تاکہ بچوں کی تعلیم میں کوئی خلل نہ پڑے اور وہ اپنی تعلیم وہاں سے شروع کریں جہاں سے انھیں سابق فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف کی طرف سے بگٹی قبیلے کے سربراہ نواب اکبر خان بگٹی کے خلاف شروع ہونے والے فوجی آپریشن کے باعث تعلیم ترک کرنا پڑی تھی۔

جب شکیل سے پوچھا گیا کہ وہ ملک میں نئی جمہوری حکومت آنے کے بعد واپس اپنے گھر جانے کی تیاری کر رہا ہے یا نہیں تو اس نے سر ہلا کر نفی میں جواب دیا۔ ”حکومت ہمیں دوبارہ سوئی میں آباد کرنے کے بجائے ہم پر یہ مہربانی کرے کہ ہم پر بمباری بند کرے، ہمارے لوگوں کو مارنا چھوڑ دے، ہمارے گھروں کو تباہ کرنا چھو ڑ دے۔ “

شکیل کے ساتھ اسی سکول میں تین ایسے بچے بھی زیر تعلیم ہیں جن کے گردے نکال دیے گئے ہیں۔ ان بچوں میں ساجن ولد نیک بگٹی، اسلم ولد پالول اور محمد امین ولد موسیٰ بگٹی شامل ہیں۔ ان کے سرپرست عیسیٰ بگٹی نے بتایا کہ ان بچوں کے گردے ڈیرہ بگٹی میں ہونے والی بمباری، گندہ اور آلودہ پانی پینے کی وجہ سے ناکارہ ہوگئے تھے۔ جب ان بچوں کی تکلیف میں کوئی خاطر خواہ کمی نہیں آئی تو انھیں جیکب آباد کے ایک ہسپتال میں لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے ان کے گردے نکالنے کا مشورہ دیا۔

بلوچستان میں ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے اضلاع میں نقل مکانی کا سلسلہ 2004ء میں اس وقت شروع ہوا جب پرویز مشرف کی حکومت نے علاقے میں ” ترقی مخالف“ سرداروں کی سرکوبی کی خاطر فورسز کی تعداد بڑھادی اور فوجی آپریشن کا سلسلہ شروع کیا۔ تاہم یہ سلسلہ باضابطہ طور پر اس وقت شروع ہوا جب فورسز نے سترہ مارچ 2005ء کو نواب اکبر خان بگٹی کے قلعہ پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں نواب بگٹی خود تو بچ گئے لیکن ان کے قلعے کے آس پاس رہائش پذیرہندو برادری کے تیس کے لگ بھگ ممبران ہلاک ہوگئے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔تب سے دو لاکھ کے قریب مری و بگٹی مہاجرین سندھ ، بلوچستان اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں در بدری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ سندھ میں ان مہاجرین نے جیکب آباد، سانگھڑاور کراچی جب کہ پنجاب میں ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے علاقوں میں عارضی سکونت اختیار کی ہے۔ اسی طرح بلوچستان میں مہاجرین کی اکثریت قریبی جعفر آباد اور نصیر آباد کے اضلا ع میں رہ رہی ہے۔ علاوہ ازیں مہاجرین بولان، مچھ اور کوئٹہ کے علاقوں میں بھی روزگار کی تلاش میں نظر آتے ہیں۔

ڈیرہ بگٹی سے نقل مکانی کرنے والے ایک نوجوان سعید بگٹی کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنا گھر بار چھوڑ کر نکلے تو انھیں یقین تھا کہ وہ جس بھی علاقے میں جائیں گے لوگ انھیں کھلے دل سے خوش آمدید کہیں گے کیوں کہ ان کے قبیلے کا نواب (اکبر بگٹی) اور ان کے ساتھی بلوچوں کے حقوق کی خاطر حکومت سے جنگ کر رہے تھے۔ لیکن یہ ان کی خوش فہمی تھی جو جعفر آباد پہنچ کر ہی ختم ہوگئی۔ یہا ں آکر پتہ چلا کہ بلوچیت پر قبائلیت کا غلبہ زیادہ تھا اور مقامی لوگ انہیں بلوچ کے بجائے بگٹی سمجھنے لگے۔ اس کا کہنا ہے کہ ” علاقے کے لوگ ہمیں حقارت کی نظر سے دیکھنے لگے۔ کوئی ہمیں ’مہاجر‘ کہنے لگا تو کوئی ہماری مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا سوچنے لگا“۔

-جن مہاجرین کے پاس وسائل تھے کہ وہ کرایہ کے گھر میں رہیں انھیں مکان کرایہ پر لینے کی تگ و دو کے دوران پتہ چلا کہ مقامی مالک مکان تو ان لوگوں پر اعتبار کرنے پر ہی تیار نہیں تھے۔ وہ انھیں ”تخریب کار“ سمجھ رہے تھے اور ان کے خیال میں اگر وہ اپنے مکان میں کسی مری یا بگٹی کو جگہ دیں گے تو شاید وہ کل کو ان کے لیے مسائل پیدا کریں۔ اور اگر کوئی مکان دینے کے لیے راضی ہوتا بھی تھا تو اس کے عوض وہ ان سے کرایہ کی رقم زیادہ مانگتا ۔نقل مکانی کرنے والے تمام خاندانوں کی مالی حیثیت انھیں اس بات کی اجازت نہیں دے رہی تھی کہ وہ کسی کرایہ کے گھر میں رہیں، چنانچہ ایسے لوگوں کے لیے ایک ہی راستہ باقی تھا کہ وہ کسی میدان میں جھونپڑی قائم کر کے عارضی طور پر سکونت اختیار کریں۔

جھونپڑیوں میں رہائش اختیار کرنے والے ایک شخص نے بتایا کہ یہاں بھی وہ آرام کی زندگی گزارنے سے رہے، کیوں کہ ”مہاجرین کی اکثریت ناخواندہ افراد پر مشتمل ہے اور ہمارے پاس اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ ہم محنت مزدوری کریں تو ہم زیادہ تر مقامی کھیتوں میں کام کرتے ہیں، لیکن ہمیں مقامی مزدوروں کے مقابلے میں تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کم مزدوری دی جاتی ہے۔ اسی بات کے پیش نظر ہم گھر کے چھوٹے بچوں کو بھی اپنے ساتھ کام پر لگا لیتے ہیں تاکہ مشترکہ کمائی سے آمدن میں اضافہ ہو اور گھر میں چولہا جلے۔ بچوں کی تعلیم اب ہماری ترجیح نہیں بلکہ ہماری اوّلین ترجیح گھر کا خرچہ پورا کرنا ہے۔“

مری بگٹی مہاجرین کا کہنا ہے کہ حکومتی خفیہ ایجنسیوں نے ان کے لیے زندگی مزید مشکل بنا دی ہے۔ جب کبھی نصیر آباد یا جعفرآباد کے علاقوں میں کوئی پر تشدد واقعہ رونما ہوتا ہے یا بم دھماکہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے مقامی پولیس ان کی آبادی پر چھاپہ مارتی ہے جب کہ خفیہ اداروں کے اہل کار گھروں میں گھس کر روزی کمانے والے نوجوانوں کو اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کرتے ہیں جہاں انھیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس کا خاندان کو یہ نقصان ہوتا ہے کہ ان کے گھر میں کوئی کمانے والا مرد باقی نہیں رہتا جبکہ جب کچھ عرصہ خفیہ اداروں کے زیراہتمام ٹارچر سیلز میں گزارنے کے بعدیہ نوجوان رہا ہوجا تے ہیں تو وہ جسمانی تشدد کے باعث کام کرنے کے لائق ہی نہیں رہتے۔

ان مہاجرین کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ جس جس ضلع میں رہائش پذیر ہیں وہاں کی مقامی حکومتیں انھیں بطور آئی ڈی پی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتیں تا کہ ان افراد کی کسی طرح سے امداد کی جائے۔ ان افراد کو شکوہ ہے کہ جب انھوں نے عالم جنگ میں اپنے گھر چھوڑ دیے تو ان کے پاس اتنی مہلت تک نہیں تھی کہ وہ اپنے بچوں کی اسناد و کوائف نامے بھی اپنے ساتھ لے آتے اب وہ جن جن اضلاع میں رہائش پذیر ہیں وہا ں کے سکول مہاجرین کے بچوں کو داخلہ دینے پر راضی نہیں ہیں ۔ سکول سربراہان کا مطالبہ ہے کہ بچوں اور بچیوں کے سابقہ سرٹیفکیٹ لائے جائیں تب سکول میں ان کا داخلہ ممکن ہوگا۔ اس صورت حال کے پیش نظر بہت سارے مری و بگٹی مہاجر بچے اور بچیاں ترک تعلیم پر مجبور ہیں اور مقامی حکومتیں اس صورت حال میں ان کی کسی قسم کی امداد کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ جعفر آباد کی ضلعی حکومت اس بات سے مکمل انکاری ہے کہ ضلع میں کوئی ” مہاجر“ موجود ہے۔ اس کے برعکس حکومت ان افراد کو ”خانہ بدوش“ کہتی ہے۔

تاہم حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ کوئٹہ سے بذریعہ روڑ سفر کرکے جب آپ جعفر آباد کے مین روڑ پر پہنچتے ہیں تو آپ کو بہت سارے مری و بگٹی بچے بھیک مانگتے ہوئے نظرآتے ہیں جب کہ باقی لوگ مقامی ہوٹلوں میں چارپائیوں پر دراز نظر آتے ہیں۔ ان سے اگر بات کی جائے تو وہ کہتے ہیں کہ علاقے میں روزگار کے مواقع بالکل نہیں ہیں۔ مقامی لوگ انہیں تعصب بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔ وہ واپس اپنے گھروں میں جانے کی خواہش تو رکھتے ہیں لیکن یہ سو چ کر خیال ترک کردیتے ہیں کہ فرنٹےئر کور اور فوج نے مبینہ طور پر ان کے گھروں اور املاک کو لوٹا ہے اور ان کے پاس اب کوئی چارہ بھی تو نہیں ہے ۔ بہت سارے اس بات پر غیر یقینی صورت حال کا شکار ہیں کہ اگر وہ اپنے گھروں میں واپس جائیں گے تو وہاں ان کے لیے فوری طور پر روزگار کے مواقع ہوں گے یا نہیں۔

اسی طرح گھر واپس نہ جانے کی ایک وجہ بگٹی قبیلے کے بڑوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات بھی ہیں۔ بہت ساروں کو یاد ہے کہ جب سترہ مارچ 2005ء کا واقعہ پیش آیا تو وہ نقل مکانی کرکے ڈیرہ بگٹی سے نکل گئے اور پھر درمیان میں ایک مختصر عرصے کے لیے واپس بھی آگئے تھے لیکن اس کے بعد فوجی آپریشن کیا گیا اور لوگ ایک بار پھر وہاں سے بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔

حکومت پاکستان کی طرف سے بھی ان مہاجرین کے حوالے سے بدستور انکار کیا گیا ہے اور حکومت کہتی ہے کہ ڈیرہ بگٹی اور سوئی کے مہاجرین اپنے اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔ تاہم ان مہاجرین کے حوالے سے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ یونیسف کی ایک رپورٹ منظر عام پر آچکی ہے کہ بلوچستان میں 84000 افراد، جن میں سے 59000خواتین اور بچوں کی ہے، نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق مہاجرین میں پیش آنے والی طبعی اموات میں 80 فیصد پانچ سال سے کم عمر کے بچوں اور بچیوں کی ہے۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے عالمی ادارہ برائے صحت کے اندازے کے مطابق مہاجرین کی حالت ”تشویش ناک“ تھی اور انھیں فوری طور پر امداد کی ضرورت تھی۔

حکومت نے یونیسف رپورٹ کے منظر عام پر آنے پر شدید برہمی کا اظہارکیا لیکن اس کے باوجود حکومت پر دباؤ بڑھتا گیا کہ وہ ان مہاجرین کی امداد کرے۔ حکومت نے بین الااقوامی تنظیموں کو اس شرط پر کام کرنے کی اجازت دی کہ وہ ذرائع ابلاغ کو ریلیف آپریشن کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دیں گی۔ دسمبر 2006ء کو اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں نے ایک ملین ڈالر کے امدادی پیکیج کے تحت ان مہاجرین کی امداد کا سلسلہ شروع کیا۔ اس ضمن میں57 فیڈنگ سینٹرز بھی قائم کیے گئے۔ اسی طرح ایدھی فاؤنڈیشن نے بھی کچھ دنوں تک علاقے میں مہاجرین کی فلاح و بہبود کے لیے کام شروع کیا لیکن جب اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے کے اعلیٰ اہلکاروں نے کراچی میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ یہ کام تو بہت پہلے ہونا چاہیے تھا کیونکہ علاقے میں بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے تو اس پر حکومت ِ وقت نے برہمی کا اظہار کیا اور یونیسف سمیت ایدھی فاؤنڈیشن کو حکم دیا کہ وہ علاقے میں تمام سرگرمیاں معطل کر کے علاقہ چھوڑ دیں۔ تب سے اب تک، علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ، حکومت نے بلوچ مہاجرین کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی کام کیا ہے اور نہ ہی کسی غیر سرکاری فلاحی تنظیم کو کام کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ تمام غیر سرکاری تنظیمیں اس بات کی پابند ہیں کہ وہ بلوچستان کے محکمہ ِ داخلہ اور قبائلی امور سے ایک این او سی حاصل کریں اور تب کہیں جاکر علاقے میں کام شروع کریں۔ کئی اداروں کو شکوہ ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ان مہاجرین کو صحت کے شعبے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ان کی فوری امداد کی ضرورت ہے لیکن حکومتی خفیہ ادراے مستقل طور پر علاقے میں مصروف ِ عمل ہیں جس کے باعث وہاں کام کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔

تاہم انہی حالات کے باوجود بلوچ نیشنل فرنٹ نامی سیاسی اتحاد نے خفیہ طور پر ایک مفت طبی کیمپ لگایا جس میں متعدد بیماروں کا علاج کیا گیا۔ اسی کیمپ میں خدمات فراہم کرنے والے ایک ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ ان مہاجرین کی ایک بڑی تعداد ہیپاٹائٹس بی اور سی کا شکار ہے کیونکہ یہ وہی گندا پانی پیتے ہیں جو جانور بھی استعمال کرتے ہیں۔ ”دوران کیمپ ہم نے کچھ ایسے گھرانوں کے لوگوں سے بھی ملاقات کی جنھوں نے بتایا کہ ان کی خواتین زچگی کے دوران بروقت علاج معالجے کی سہولیات نہ ملنے کی وجہ سے ہلاک ہوگئی ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے کسی طرح کی امداد نہیں مل رہی۔“

جب کوئٹہ میں پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے صوبائی سربراہ میجر (ر) صابر درانی سے رابطہ کیا گیا کہ ان کا ادارہ بلوچ مہاجرین کی امداد کیوں نہیں کرتا تو انھوں نے سرے سے ہی اس بات کو رد کیا کہ ڈیرہ بگٹی یا سوئی سے لوگوں نے نقل مکانی کی ہے ۔ انھوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہمارے علم میں ایسی کوئی بات نہیں ہے اور جو لوگ اس طرح کا ”پرو پیگنڈہ“ پھیلا رہے ہیں ان کے اپنے ”پوشیدہ مفادات“ ہیں اور وہ ڈیرہ بگٹی کے علاقے میں اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری طرف اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یواین ایچ سی آر کے ایک ذرائع نے بتایا کہ ان کا ادارہ تو کب سے بلوچ مہاجرین کی خدمت کرنے کے لیے بے تاب ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بلوچستان حکومت نے خود اس سلسلے میں ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔ یو این ایچ سی آر کے مذکورہ اہل کار کا کہنا تھا کہ ہمارا طریقہ کار یہ ہے کہ حکومت ہم سے اپیل کرے کہ ہم کسی خاص جگہ میں پہنچ کر لوگوں کی امداد کریں تب ہی ہماری طرف سے کوششیں شروع ہوسکتی ہے۔ بصورت دیگر یہ یو این ایچ سی آر کے مقاصد میں شامل نہیں کہ وہ خود سے کسی علاقے میں جا کر کام شروع کرے۔

بلوچ ری پبلیکن پارٹی (بی آر پی) کے مرکزی کمیٹی کے رکن رفیق کھوسو کا کہنا ہے کہ جب سے پیپلز پارٹی کی حکومت اقتدار میں آئی ہے تب سے خفیہ اداروں کی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔ پہلے تو سیاسی مخالفین کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کیا جاتا تھا لیکن اب تو انھیں گرفتار کرتے ہی قتل کر دیا جاتا ہے اور ان کی لاشیں ویرانے میں پھینک دی جاتی ہیں۔

بگٹی مہاجرین کی تکلیف دہ زندگی کی تاریخ اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب نواب اکبر بگٹی مرحوم نے اپنے صاحبزادہ سلال اکبر بگٹی کے قتل کے الزام میں کلپر اور میسوری قبائل سے تعلق رکھنے والے مخالفین کوایک ’متفقہ‘ فیصلے کے تحت ڈیرہ بگٹی بدر کردیا تھا۔ نواب بگٹی کے مخالفین عرصہ دراز تک سندھ اور پنجاب کے سرحدی علاقوں میں مہاجرین کی زندگی اس وقت تک گزارتے رہے جب تک جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں ان کو دوبارہ لاکر آباد نہیں کیا گیا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی بلوچستان میں مفاہمتی عمل شروع کرنے کا وعدہ کیا اور یہ بھی کہا کہ تمام بگٹی مہاجرین کی اپنے گھروں میں واپسی کا بندو بست کیا جائے گا۔ تاہم حکومت کو اس وقت مایوسی ہوئی جب نواب بگٹی کے پوتے نوابزادہ براہمداغ بگٹی اور نواب بگٹی کے فرزندوں جمیل اور طلال اکبر بگٹی نے حکومت کی پیشکش رد کر دی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ڈیرہ بگٹی سے سیکورٹی فورسز کا مکمل انخلا کیا جائے اور نواب بگٹی کے مخالفین کو وہاں سے نکال دیا جائے جن کو بقول اُن کے پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں لا کر اس لیے آباد کیا گیا تھا کہ وہ اسلام آباد کی ”لڑاؤ اور حکمرانی کرو“ کی پالیسی کو عملی جامعہ پہنائیں۔

اس موقع پر حکومت کو میر عالی بگٹی کی حمایت حاصل ہوگئی جو ڈیرہ بگٹی جانے پر راضی ہوگئے۔ میر عالی بگٹی نواب اکبر بگٹی کے سب سے بڑے بیٹے سلیم اکبر بگٹی مرحوم کے بیٹے ہیں اور قبائلی روایات کے مطابق بگٹی قبیلے کی نوابی کا حق انہی کا بنتا ہے لیکن دوسری طرف جو لوگ نوابزادہ براہمداغ بگٹی کو اس عہدے کا حق دار سمجھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ نواب اکبر بگٹی نے اپنی زندگی ہی میں براہمداغ کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔ علاوہ ازیں چونکہ براہمداغ پچھلے تین سالوں سے سکیورٹی فورسز سے لڑ رہے ہیں اس لیے ان کی حمایت اور شہرت ڈیرہ بگٹی سے نکل کر پورے بلوچستان میں پھیل گئی ہے۔

اب جب کہ میر عالی بگٹی اپنے قبیلے کے نواب مقرر ہوگئے ہیں اور وہ اپنے ساتھ کچھ مہاجرین کو تو واپس لے جا چکے ہیں لیکن بیشتر مہاجرین تاحال اپنے اپنے گھروں میں واپس جانے پر آمادہ نہیں ہیں کیوں کہ میر عالی اور براہمداغ بگٹی کے درمیان اختلافات عروج پر پہنچ چکے ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے وفاداروں کو نقصان پہنچانے کی حتیٰ الوسع کوشش کر رہے ہیں۔ فریقین کے مابین پرتشدد جھڑپیں کسی وقت بھی پیش آ سکتی ہیں۔

حال ہی میں نوابزادہ براہمداغ کے ایک قریبی ساتھی اور بی آر پی کے مرکزی کمیٹی کے رکن مرید بگٹی کو نامعلوم افراد نے سندھ کے ایک سرحدی گاؤں میں ہلاک کر دیا۔ اپنی زندگی میں مرید بگٹی نے بتایا تھا کہ ان پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ نوابزادہ براہمداغ کی حمایت ترک کردیں ورنہ انہیں مار دیا جائے گا۔ بی آر پی نے الزام لگایا کہ مرید بگٹی کو میر عالی کے لشکر نے ہلاک کیا ہے لیکن 23 جون کو خود کو کلپروں کا ترجمان کہنے والے وڈیرہ خیر دین نے صحافیوں کو بتایا کہ انھوں نے مرید بگٹی کو قتل کیا ہے کیونکہ مرحوم کلپروں پر ہونے والے مظالم میں براہِ راست شریک تھے۔ اگرچہ کلپروں نے بعد میں اس بیان سے لاتعلقی کا اعلان کیا لیکن اس سے ڈیرہ بگٹی میں پائی جانے والی سنگین صورتحال کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قبائلی اختلافات اس حد تک بڑھ گئے ہیں کہ عام مہاجرین کے لیے مستقبل قریب میں بھی دربدری کے سوا کوئی اور راستہ نظر نہیں آتا۔ ڈیرہ بگٹی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقہ میں ابھی تک ایف سی اور آرمی کا کنٹرول ہے اور بحالی ِ امن کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔

(Courtesy: Weekly HumSheri, Lahore)
http://humshehri.com/DetailStory.aspx?ID=1877

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: