Cold shoulder for the Balochistan parliamentary committee


humsheri

پارلیمانی کمیٹی اور بلوچستان کا مسئلہ

ماضی میں وسیم سجاد اور مشاہد حسین کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی سے تمام بلوچ رہنما مذاکرات کرنے کے لیے تیار تھے مگر اب صورت حال مختلف ہے

ملک سراج اکبر

بلوچستان میں شورش میں کمی کے بجائے بتدریج اضافہ نے ایک بار پھر پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے سامنے یہ سوال لا کھڑا کیا ہے کہ اقتدار میں آنے کے اٹھارہ مہینے گزرنے کے باوجود کیوں بلوچستان کے مسئلے پر اس مجوزہ کل جماعتی کانفرنس کا انعقا د کرے جس کا چرچا خود شہید بینظیر بھٹو کی زندگی میں سنا گیا تھا۔ اپنی شہاد ت سے دو ہفتے قبل پی پی پی کی شہید چیئرپرسن نے اپنے دورہ ِ بلوچستان میں صوبے کے مسئلے کا پرامن و جمہوری طریقے سے حل ڈھونڈنے کا مشورہ دیا تھا اور کہا تھا کہ اگر ان کی جماعت اقتدار میں آتی ہے تووہ بلوچستان میں جاری علیحدگی کی تحریک کو ختم کرنے کی خاطر تمام سیاسی جماعتوں اور بلوچستا ن کے ناراض عناصر کو ساتھ لے کر ایک مستقل حل کی طرف سفر شروع کریں گے۔ تاہم محترمہ شہید کے بغیر حکومت میں آنے کے بعد پی پی پی نے بلوچستان کے مسئلے پر اس سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا جس کی اس سے توقع کی جارہی تھی ۔

جوں جوں جمہور ی حکومت بلوچستان کے مسئلے کو نظرانداز کرتی رہی توں توں ملک کے سب سے بڑے شورش زدہ صوبے میں اسلام آباد مخالف جذبات میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا۔ ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر بلوچ علاقوں میں آزاد بلوچستان کا مطالبہ کرنے والی قوتوں نے سرکاری سکولوں اور عمارتوں پر پاکستان کے جھنڈے ہٹانا شروع کردیے ہیں۔ حتیٰ کہ کوئٹہ میں قائم جامعہ بلوچستان میں آزاد بلوچستان کے درجنوں جھنڈے لگا ئے گئے ہیں اور خوف کے باعث کسی سرکاری اہل کار کو اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ ان جھنڈو ں کو اتار دے ۔ علاوہ ازیں بلوچ مسلح تنظیموں نے دھمکی دی ہے کہ اگر بلوچستان کے کسی بھی سکول میں پاکستان کا قومی ترانہ صبح کی اسمبلی میں گایا گیا تو اس سکول کی انتظامیہ پر حملے ہوں گے۔ شروع شروع میں تو کوئی ان دھمکیوں کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا تھا اور چند ایک سکولوں کے سربراہان نے دھمکیوں کو ملحوظ ِ خاطر نہ لاتے ہوئے قومی ترانے بجائے لیکن اس کے جواب میں بلوچ مسلح تنظیموں نے انھیں قتل کردیا ۔ یوں اس طر ح کی کارروائیوں میں بلوچستان کے مختلف علاقو ں میں نصف درجن کے قریب پرنسپل اور اساتذہ قتل کر دیے گئے۔ واضح رہے جب تین مہینے پہلے خضدار میں قائم بلوچستان ریذیڈیشنل کالج کے پرنسپل کو قتل کر دیا گیا تب سے کالج میں درس و تدریس کا سلسلہ رک گیا ہے۔ جب یہ مسئلہ بلوچستان اسمبلی میں اٹھایا گیا تو صوبائی وزیر تعلیم شفیق احمد خان نے بلوچستان اسمبلی کو دو ٹوک الفاظ میں مطلع کیا کہ بلوچستان بھر میں پنجابی اساتذہ خوف و ہراس کا شکار ہیں اور ان میں سے بیشتر نے صوبے سے ٹرانسفر کروانے کی درخواستیں دی ہیں ۔ ان درخواستوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان پر غور کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔

اس سنگین صورتحال کے پیش نظر حکومت نے بلوچستان میں مذاکراتی عمل کو ایک بار پھر شروع کرنے کی خاطر سینیٹر رضا ربانی کی قیاد ت میں ایک کمیٹی کو فعال کیا ہے جس کے ذمہ بلوچستان کے مسائل کو فوری طور پر حل کرنا ہے۔ مذکورہ کمیٹی نے اپنی پندرہ نکاتی سفارشات وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو پیش کی ہیں جو کہ وزیر اعظم نے منظور بھی کر لی ہیں۔ ان سفارشات میں تجویز دی گئی ہے کہ بلوچستان میں جامع مذاکرات کا عمل دوبار ہ شرو ع کیا جائے، تمام لاپتہ افراد اور سیاسی کارکنان کو بازیاب کیا جائے۔ اس کے علاوہ رضا ربانی کی کمیٹی نے یہ سفار ش بھی کی ہے کہ بلوچستان کو قومی مالیاتی کمیشن ( این ایف سی) ایوارڈ، گیس رائلٹی اور انتظامی امور پر جو شکایات ہیں ان پر بھی وفاقی حکومت غور و خوص کرے تاکہ یہ مسائل حل ہوں۔ کمیٹی نے یہ سفارش بھی کی ہے کہ سوئی سے غیر ضروری افواج کا انخلا کیا جائے۔

حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت کی طرف سے شروع کیے گئے اس اقدام کی کھلے دل سے تعریف نہیں کررہی ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (قائد) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید نے حال ہی میں کوئٹہ کے دورے کے موقع پر کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کا حل معافی مانگنے اور نئی کمیٹیوں کی تشکیل میں نہیں ہے ۔ اس سے قبل ان کے دور حکومت میں جو پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی تھی اسی ہی کی سفارشات پر اگر عمل درآمد کیا جاتا ہے تو ایک نئی کمیٹی کی تشکیل کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔ مشاہد حسین کا کہنا ہے کہ ان کی کمیٹی کو تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل تھی اور اس میں تمام جماعتوں نے بلوچستان کے بحران کے حل کے لیے ٹھوس سفارشات بھی پیش کیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر وہ اپنی کمیٹی کو کامیاب سمجھتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ وہ مذکورہ آئینی کمیٹی کی سفارشات کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے تو انھوں نے اس کی ذمہ داری اسلام آباد کی بیورو کریسی میں موجود اس ” منفی ذہنیت“ پر ڈال دی جو پاکستان میں چھوٹے صوبوں اور خاص کر بلوچستان کے جائز حقوق کو تسلیم کرنے کو تیا ر نہیں ہے۔ ”اسی منفی ذہنیت نے نواب بگٹی کو قتل کروایا ۔ اسی ذہنیت نے ہماری کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد نہیں ہونے دیا ۔ جب تک ہم سب مل کر اس منفی ذہنیت کے خلاف کام نہیں کرتے تب تک ہم اپنے مسائل کا حل نہیں ڈھونڈ سکیں گے۔ اس وقت بلوچستان کو مرہم کی سخت ضرور ت ہے۔“

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سینیٹر رضا ربانی کی کمیٹی کے لیے اس وقت حالات اتنے ہی ساز گار ہیں جتنے 2004ء میں مشاہد حسین اور وسیم سجاد کی کمیٹی کے لیے تھے؟ سیاسی ماہرین اس کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔ پی پی پی کی جانب سے شروع کردہ مذاکراتی عمل میں جو بنیادی خامی نظر آرہی ہے وہ یہ ہے کہ اس نے اپنی تمام سفارشات بلوچستا ن میں آکر زمینی حقائق دیکھ کر مرتب نہیں کی ہیں۔ تاحال اس سلسلے میں جو پیش رفت ہوئی ہے اس میں پرویز مشرف کے دور حکومت میں شرو ع کیے گئے فوجی آپریشن کے براہ راست متاثرین کو سرے ہی سے نظر انداز کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کے دکھ درد سنے گئے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ایک با اختیار کمیٹی بلوچستان کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرتی اور ان تمام افراد سے ملاقاتیں کرتی جن کے عزیز و اقارب فوجی آپریشن کے دوران ہلاک، زخمی، گرفتار یا لاپتہ ہوئے تاکہ ان کے مسائل کا پتہ چل سکے۔

raza

درج بالا سطور میں بلوچستان کی جس صورت حال کی منظر کشی کی گئی ہے اس سے کم از کم یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ بلوچستان میں حالات اتنے ساز گار ہرگز نہیں ہیں کہ اسلام آباد میں بیٹھ کر اس کے حل کے لیے کوئی فارمولا تیار کیا جائے۔ جس دور میں وسیم سجاد اور مشاہد حسین کی سربراہی میں کمیٹی بنی اس وقت حالات قدرے مختلف تھے۔ پارلیمان کی ان کمیٹیوں کے قیام کو بلوچستان کے سرکردہ رہنماؤں نواب اکبر بگٹی، سردار عطا اللہ مینگل اور نواب خیر بخش مری نے خو ش آئند قرار دے کر ان کے ساتھ بات چیت پر حامی بھرلی۔ واضح رہے بلوچ قوم پرستوں کی جانب سے مذاکراتی عمل میں اس قدر دلچسپی لی گئی کہ چار جماعتی بلوچ قومی اتحاد ( جس میں بلوچستان نیشنل پارٹی ، نیشنل پارٹی ، جمہوری و طن پارٹی اورحقِ توار پارٹی شامل تھیں ) نے درج ذیل آٹھ نکاتی متفقہ سفارشات کمیٹی کے سپر د اس وقت کیں جب باضابطہ طور پر کمیٹی نے کام شرو ع نہیں کیا تھا۔

1۔ گوادر پورٹ پر اس وقت تک کام روک دیا جائے جب تک اس کی سیاسی، معاشی اور انتظامی اثرات کے متعلق فزیبلٹی رپورٹ تیار نہیں کی جاتی۔

2۔ بلوچستان میں چھاؤنیوں کے قیام کو ترک کیا جائے۔

3۔ گوادر میں تمام الاٹمنٹس منسوخ کی جائیں۔

4۔ لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کے فیصلے کو واپس لیا جائے۔

5۔ فرنٹیئر کور (ایف سی) سے کسٹمز کے اختیارات واپس لیے جائیں اور اس کو دوبارہ سرحدوں پر تعینا ت کیا جائے کیوں کہ امن و امان ایک صوبائی مسئلہ ہے ۔ تمام چیک پوسٹوں بشمول اوتھل چیک پوسٹ کو ختم جائے۔ صوبے کا اپنی گیس پر اختیار تسلیم کیا جائے اور گیس سے آنے والی تمام آمدنی صوبے کے حوالے کی جائے۔

6۔ بلوچستان میں ہر قسم کی فوجی کارروائی کا خاتمہ کیا جائے اور فورسز کا انخلا یقینی بنایا جائے۔

7۔ بلوچستان کے لوگوں کو تمام وفاقی اداروں میں مناسب نمائندگی دی جائے

8۔ میگا پراجیکٹس اور گیس فیلڈز میں صرف مقامی لوگوں کو نوکری دی جائے۔

تاہم اب جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے بلوچستان میں مذاکراتی عمل کا آغاز کیا ہے تو زمینی حقائق یکسر بدل گئے ہیں ۔مشاہد حسین کمیٹی کی سفارشات قابل تحسین ضرور ہیں لیکن ان کے ساتھ المیہ یہ رہا کہ ان پر عمل درآمد کبھی ہوا ہی نہیں۔ اس کے برعکس پرویز مشرف نے بلوچ رہنماؤں کو دھمکی دی کہ” انھیں ایسے ہٹ کیا جائے گا کہ انھیں پتہ تک نہیں چلے گا“۔ اس کے بعد فوجی آپریشن میں تیز ی لائی گئی، نواب بگٹی اور بالاچ مری جیسے اہم بلوچ رہنماؤں کو قتل کردیا گیا۔ ان واقعات نے بلوچستان میں نئے شہدا کو جنم دیا اور صوبے میں حقو ق اور خود مختاری کی جنگ کا رخ تبدیل کرکے اسے آزادی کی ایک جنگ بنادیا ۔ اس سوچ کو پڑھے لکھے مڈل کلاس بلوچ نوجوانوں کی پشت پنائی حاصل ہوگئی اور یوں مسلح تنظیموں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ۔

پی پی پی کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے ساتھ معافی تو مانگ لی لیکن بلوچوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔ بحالی اعتماد کی خاطر چند ایک اقدامات اٹھائے گئے جن میں سابق وزیر اعلیٰ اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کی رہائی، نواب خیر بخش مری کے بیٹوں کے خلاف درج مقدمات کی واپسی شامل ہیں لیکن بلوچوں کا شکوہ اپنی جگہ پر بدستور قائم رہا کہ ان اقدامات سے تو صرف چند ایک سردار وں کو فائدہ پہنچا ہے نہ کہ عام بلوچ کو۔

بلوچ اور پی پی پی کے درمیان اگر کسی طرح کا اعتماد موجود تھا تو اس کو زبرد ست دھچکا اس وقت لگا جب اس سا ل اپریل کے مہینے میں بلوچستان نیشنل موومنٹ کے مرکزی چیئر مین اور سرکردہ بلوچ قوم پرست رہنما غلام محمد بلوچ، نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے سابق نائب صدر لالہ منیر بلوچ اور بلوچ ری پبلکن پارٹی (بی آرپی) کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیر محمد بلوچ کو تربت کے مقام سے خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر اغوا کر لیا اور چند دن کے بعد ان کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں۔ جہاں بلوچ اپنے رہنماؤں کی ہلاکت پر نڈھا ل تھے وہاں وزیر داخلہ رحمن ملک کا یہ کہنا کہ ان تینوں رہنماؤں کا پیسوں کے معاملے پر آپس میں جھگڑ ا ہوا تھا یا براہمداغ بگٹی نے انھیں مروایا ، نے جلتی پر تیل کر کام کیا۔ اسی طرح بی آرپی کے مرکزی صدر ڈاکٹر بشیر عظیم ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات جلیل ریکی ، مرکزی کمیٹی کے رکن چاکر قمبرانی،بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (آزاد ) کے مرکزی نائب صدر ذاکر مجید ، کوئٹہ زون کے صدر شاہ زیب بلوچ، مرکزی رہنما قمبر چاکر کی گرفتاری اور بی آر پی کی مرکزی کمیٹی کے رکن مرید بگٹی کی ہلاکت کے یکے بعد دیگرے ہونے والے واقعات نے بلوچ رہنماؤں کو یہ کہنے کا موقع فراہم کیا کہ پی پی پی پرویز مشرف کی حکومت کی پالیسیوں کو بلوچستان میں جاری رکھے ہوئے ہے۔

یوں صوبے میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا جو صوبائی حکومت کی مقبولیت کا گراف بہت نیچے لایا۔

اس کے جواب میں صوبائی حکومت نے کوئٹہ میں ایف سی کو تعینات کیا اور کوئٹہ سے نکلنے والے ا خبار روزنامہ”آساپ “ کو بند کردیا گیا جب کہ دو اور مقبول اخبار ” بلوچستان ایکسپریس“ اور ”آزادی “ کا کئی دنوں تک محاصر ہ کیا گیا۔ ان کارروائیوں کا یہ اثرہوا ہے کہ اگر اب پی پی پی بلوچستان میں کسی مذاکراتی عمل کا آغاز کرتی ہے تو وہ کس سے بات کرے گی؟کہا جاتا ہے کہ جو نوجوان ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث ہیں وہ منظر نامے پر موجود کسی بلوچ رہنما کی بات سننے کو تیار نہیں ہیں۔ ان نوجوانوں پر بی این پی ، نیشنل پارٹی یا جمہوری وطن پارٹی کا کوئی کنٹرول نہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ پارٹیاں حکومت کے ساتھ مذاکرات کرتی ہیں تو کیا وہ صوبے میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کا سد باب کر سکیں گے؟ بلوچستان میں بداعتماد ی کی فضا اس حد تک پہنچ گئی ہے بی این پی اور این پی جیسی معتدل قوتوں کا بھی کہنا ہے کہ بلوچستان میں اس وقت تک حکومت کے ساتھ مل بیٹھ کر با ت چیت نہیں کریں گی جب تک ان مذاکرات میں اقوام متحدہ یا یورپی یونین ”آبزرور “ کا کردار ادا نہیں کرتیں تاکہ ایک بار پھر وفاق بلوچوں کو چکما نہ دے۔

دریں اثنا نواب اکبر بگٹی کے فرزند جمیل اکبر بگٹی نے سابق صدر جنرل مشرف، وزیراعظم شوکت عزیز ، سابق گورنر بلوچستان اویس احمدغنی، وزیراعلیٰ جام محمد یوسف سمیت ان کے متعدد حامیوں کے خلاف ضلع سبی کے سیشن کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ نواب بگٹی کے قتل کے سلسلے میں سابق فوجی آمر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مذکورہ کیس کی سماعت کرنے والے فاضل جج نے بلوچستان کے انسپکٹر جنرل کو بھی دو ستمبر کی پہلی پیشی میں حاضر ہونے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

اب اگرمشرف کے خلاف صحیح معنوں میں مقدمہ چلتا ہے اور وہ انصاف کے کٹہرے میں لائے جاتے ہیں تو یقینا اس سے بلوچوں کا اعتماد بڑی حد تک وفاق پر بحال ہوگا۔ اسی طرح پی پی پی کو چاہیے کہ وہ مذاکراتی عمل شروع کرنے سے پہلے چند ایک ایسے اقدامات کرے جس سے اس کے بااختیار اور سنجیدہ ہونے کا احسا س ہو، بصورت دیگر رضا ربانی کمیٹی کا بھی وہی حشر ہوگا جو مشاہد حسین اور وسیم سجاد کی کمیٹیوں کا ہوا۔ اس مرتبہ ناکامی کا مطلب مستقبل میں بلوچستان کے لیے بننے والی مزید نئی کمیٹیوں کے دروازے بند کرنے کے مترادف ہوگا۔

Comments
One Response to “Cold shoulder for the Balochistan parliamentary committee”
Trackbacks
Check out what others are saying...
  1. […] Cold shoulder for the Balochistan parliamentary committee […]



Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: