I am not anti-tribalism: Bramdagh Bugti


bramdaggg

میں قبائلی نظام کا مخالف نہیں ہوں“

جنگ مسلط کی گئی…

حکومت اپنے اقدامات سے ثابت کرے کہ وہ حل کے لیے سنجیدہ ہے“

انٹرویو: ملک سراج اکبر

براہمداغ بگٹی ترک پارلیمان کی سوچ رکھنے والی بلوچ ری پبلکن پارٹی (بی آر پی) کے سربراہ ہیں اور 2006ء میں اپنے داد ا کی ہلاکت کے بعد سے روپوش ہو کر صوبے میں ایک مسلح تحریک چلار ہے ہیں۔ انھوں نے حال ہی میں” ہم شہر ی“ کو ایک خصوصی انٹرویو دیا جو کہ قارئین کی خدمت میں حاضرہے۔

ہم شہری: حکومت ِ پاکستان کا الزام ہے کہ آپ افغانستان میں بیٹھ کربھارت کی مدد سے بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک چلارہے ہیں۔ کیا آپ کو نہیں لگتا کہ پاکستانی حکومت کابل پر دباؤ ڈال کر کسی وقت بھی آپ کو وہاں سے ملک بدر کر سکتی ہے؟

براہمداغ بگٹی: میں ماضی میں بھی کئی بار اس بات کی وضاحت کرچکا ہوں کہ میں افغانستان یا کسی اور ملک میں نہیں ہوں بلکہ میں اس وقت بھی بلوچستان میں اپنے لوگوں کے درمیان ہی روپوش ہوں۔ میں کوئی بیوقوف نہیں ہوں کہ لوگوں کو کھلے عام بتا دوں کہ میں کہاں چھپاہوا ہوں تاکہ میرے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو” پنجابی فوج“ نے میرے دادا نواب محمد اکبر خان بگٹی کے ساتھ کیا تھا۔ نواب صاحب تو مذاکرات کے لیے بھی راضی تھے اور ان کی ملاقاتیں چوہدری شجاعت حسین اور مشاہد حسین سیدکے ساتھ ہوئیں لیکن اس کاصلہ انھیں یہ ملا کہ انھیں ایک فوجی آپریشن میں مار دیا گیا اور ان کی میت تک ان کے گھر والوں کے سپرد نہیں کی گئی ۔

حکومت میرے افغانستان یا کسی اور دوسرے ملک میں روپوش ہونے کا شوشہ پھیلا کر د رحقیقت بلوچستان کے اصل مسئلے سے لوگوں کی توجہ ہٹا نا چاہتی ہے کہ یہاں ہم بلوچ اپنی آزادی اور پاکستان سے علیحدگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ تاہم میں اس بات میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتا کہ میں افغانستان یا کسی دوسرے ملک میں چلا جاؤں۔ البتہ میں ایک بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اب عالمی سیاست کے انداز بدل گئے ہیں اور حکومت پاکستان کے لیے مجھے کہیں سے ملک بدر کرنا ممکن نہیں ہے رہا ۔ میں اگر افغانستان یا یورپ میں چلا جاؤں تو مجھے یقین ہے کہ جو لوگ بلوچ مسئلے سے آگا ہ ہیں وہ مجھے پاکستان کے حوالے ہرگز نہیں کریں گے کیوں کہ اب پوری دنیا کو پتہ چل گیا ہے کہ بلوچ ایک جائز جنگ لڑرہے ہیں جو ان پر خود پاکستان نے مسلط کی ہے۔ اب عالمی سطح پر لوگ ہمارے موٴقف کی حمایت کررہے ہیں اور اس جھوٹے حکومتی پراپیگنڈے کو مستر دکر رہے ہیں کہ ہم دہشت گر د ہیں۔

ماضی میں حکومت نے اسی طرح کے بے بنیاد الزامات بزر گ بلوچ قوم پرست رہنما نواب خیر بخش مری کے فرزندوں نوابزادہ حیربیار مری اورگزین مری پر بھی لگائے تھے ۔ مذکورہ بلوچ رہنماؤں کو جب لند ن اور دبئی کی بااختیار عدالتوں میں پیش کیا گیا تو ان کے خلاف کوئی بھی جرم ثابت نہیں ہوسکا۔ ہم لوگوں کو خود پاکستانی فوج نے ہمارے گھروں سے بے دخل کرکے پہاڑوں پر جاکر ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیا ہے۔ ہمارے گاؤں کے گاؤں بمباری سے تباہ و برباد کر دیے گئے ہیں۔ ہمارے لوگوں کو در بدری کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا۔

ہم شہری: وفاقی حکومت نے سینیٹر رضا ربانی کی قیادت میں بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی بنائی ہے جس نے اپنی پندرہ نکاتی سفارشات وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو پیش کی ہیں جو قبول بھی ہو چکی ہیں، تو کیا آپ حکومت کی طرف سے شروع کردہ اس مذاکراتی عمل کو خوش آئند قرار دے کر اس کا حصہ نہیں بنیں گے؟

براہمداغ بگٹی: میں سمجھتا ہوں کہ بلوچستان میں اس وقت جتنے مظالم بلوچوں پر ڈھائے جارہے ہیں اس کی نظیر پرویز مشرف کے دور حکومت میں بھی نہیں ملتی ۔ پی پی پی سابقہ حکومت کی جارحانہ پالیسیوں کا تسلسل جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان میں تاحال فوجی آپریشن جاری ہے اور سیاسی کارکنان کی ماروائے عدالت گرفتاری روز کا معمول بن چکی ہے۔ حکومت چیک پوسٹوں کی تعداد میں بدستور اضافہ کررہی ہے اور اس کے باوجود اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ہم حکومت کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کریں گے تو یقینا آپ ہمارے ساتھ انصاف نہیں کر رہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم اپنی آزادی کی جنگ لڑر ہے ہیں نہ کہ صوبائی خود مختاری کی ۔ مذاکرات دو فریقین کے درمیان صرف اس وقت ہوسکتے ہیں جب وہ کچھ دو اور کچھ لو کی پالیسی کے تحت کسی چیز پر تصفیہ کررہے ہیں۔ ہم پاکستان سے کچھ مانگ رہے ہیں اور نہ ہی اسے کچھ دینے کو تیار ہیں۔ ہمارا موٴقف ہے کہ آپ ( اسلام آباد) ہمار ے گھر میں بطور حملہ آور داخل ہوئے ہیں اور ہمیں بزور قوت اپنے ساتھ ملایا ہوا ہے۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمارے گھر سے نکل جائیں اور ہماری آزادی کا اعلا ن کریں۔ اس کے علاوہ ہمارا پاکستان کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں ہے۔ اس کے بعد ہم فیصلہ کریں گے کہ ہم پاکستان کے ساتھ کیسے تعلقات رکھتے ہیں۔

ہم شہری: تو کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ آپ نے مذاکرات کے تمام دروازے بند کر دیے ہیں؟ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ حکومت کو بحالی اعتماد کی خاطر چند ٹھوس تجاویز دے دیں تا کہ ان پر عمل در آمد کرکے حکومت مذاکراتی عمل کی کامیابی کو یقینی بنائے۔

براہمداغ بگٹی: ہم حالت جنگ میں ہیں اور بندوق کی نو ک پرحکومت کے ساتھ ہرگز مذاکرات نہیں کریں گے۔ حال ہی میں ”ہیرالڈ“ نے ایک کوراسٹوری میں بتایا کہ ڈیرہ بگٹی ابھی تک ایک ”نو گو ایریا“ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اپنے اقدامات سے ثابت کرے کہ وہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ ہے۔ میرے خیال میں اگر پی پی پی مسائل کے حل میں مخلص ہو بھی تو اس کے پاس اختیار ات نہیں ہیں کہ وہ بلوچستان کے مسئلے کو حل کرے۔ پاکستانی فوج اور اسٹیبلشمنٹ بلوچستان کے مسئلے کو حل نہیں کرنا چاہتے۔ سب سے پہلے ”پنجابی فوج“ کو بلوچستان سے مکمل طور پر نکل جانا چاہیے ، گرفتار سیاسی کارکنان اور عام بلوچوں کو رہا کیا جائے، فوجی آپریشن کا فی الفور خاتمہ کیا جائے اور چھاؤنیوں و چیک پوسٹوں کے قیام کا عمل روک دیا جائے ۔ تب کہیں جاکر ہم سوچیں گے کہ آیا اب ہم حکومت کے ساتھ بات کریں یا نہیں۔آیا ہم پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا نہیں؟ اس کا فیصلہ اس وقت ہوگا جب ہماری ان شرائط پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ اس سے کم پر ہم ہرگز مذاکرات نہیں کریں گے۔

ہم شہری: آپ پر الزام ہے کہ آپ کو بھارت مالی امداد کررہا ہے۔

براہمداغ بگٹی:میری پوری عالمی برادری بشمول بھارت، امریکہ ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین سے گزارش ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف ہماری ہر ممکن مدد کریں تاکہ ہم اس ریاست سے جلد از جلد نجات حاصل کریں۔ فی الحال تو ہمیں کسی طرح کی بین الاقوامی امداد نہیں مل رہی جس کے باعث ہم ظلم کی چکی میں پِس رہے ہیں ۔ اگر پاکستان امریکی ہتھیار بلوچوں کے خلاف استعمال کرسکتاہے تو اس میں کیا عیب ہے کہ بلوچ بھی عالمی امداد کی اپیل کریں؟ لیکن آپ کے سوال کے جواب میں صرف اتناکہوں گا کہ اس وقت ہمیں کوئی بیرونی امداد نہیں مل رہی۔ اگر ہمیں پیشکش کی جاتی ہے تو ہم کھلے دل سے اس امداد کو قبول کریں گے کیوں کہ ہم مظلوم ہیں اور اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

ہم شہری: حال ہی میں شرم الشیخ میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور ان کے بھارتی ہم منصب من موہن سنگھ کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے میں پہلی مرتبہ بلوچستان میں مبینہ بھارتی مداخلت کا ذکرآیا ہے۔آپ اس پیش رفت کو کیسے دیکھتے ہیں؟

براہمداغ بگٹی:اگرچہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ ہمیں کوئی بیرونی امداد نہیں مل رہی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ حکومت پاکستان کی ان حماقتوں کی وجہ سے ( جیسا کہ شرم الشیخ میں بھارت کے ساتھ بلوچستان کے مسئلے کو اٹھا تے وقت دیکھنے میںآ یا)بلوچ قومی تحریک کو بے پناہ بین الاقوامی مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ اسی طرح جب حکومت ِ پاکستان نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ نوابزادہ حیربیار مری کو گرفتار کرکے ان کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ چلایا جائے تو اس کا براہ راست فائدہ بلوچوں کو ہوا۔ اب ماضی کے مقابلے میں زیادہ تر لوگ عالمی سطح پر بلوچ مسئلے سے آشنا ہورہے ہیں اور مغربی ذرائع ابلاغ میں ہماری حالت زار پر ماضی کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ رپورٹس آرہی ہیں جسے ہم اپنے لیے ایک نیک شگون سمجھتے ہیں ۔

ہم شہری:آپ کی جو مسلح تحریک ہے خود آپ ا س کی کیسے تشریح کریں گے؟

براہمداغ بگٹی: دیکھیں ہم جو گوریلا جنگ لڑر ہے ہیں اسے دہشت گردی سے تعبیر نہ کریں۔ ہم دہشت گرد نہیں بلکہ سیاسی لوگ ہیں جن پر ایک جنگ مسلط کی گئی ہے اور ہم سیاسی مقاصد کی خاطر اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہم اعتراف کرتے ہیں کہ تکنیکی اعتبار سے ہم پاکستان کی مضبوط فوج کے مقابلے میں کمزور ہیں لیکن اس کے باوجود ہم اپنی آزادی تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔

ہم شہری: خان آف قلات میر سلیمان داؤد نے حال ہی میں ”انڈیپنڈنٹ بلوچستان کونسل“ تشکیل دی ہے۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

‘براہمداغ بگٹی: میرا خان ِ قلات کے ساتھ کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہے لیکن میں آزاد بلوچستان کے لیے کی جانی والی تمام کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔

ہم شہری:حال ہی میں بلوچ ری پبلکن آرمی (بی آر اے)‘ جس کے بارے میں باور کیا جا تا ہے کہ آپ اس کی سربراہی کررہے ہیں‘ نے نصیر آباد کے علاقے میں بائیس پولیس اہل کار وں کو اغوا کرکے قتل کردیا ہے۔ اس کارروائی کا آپ کیسے دفا ع کریں گے؟

براہمداغ بگٹی :میں بی آر اے یا بی ایل اے کا سرپرست تو نہیں ہو ں لیکن میں انھیں اپنا بھا ئی سمجھتا ہوں، ان کی ہر کارروائی سے متفق ہوں اور ان کی مکمل حمایت کرتاہوں۔پولیس اہلکاروں کا اغوا اور قتل یقینا کسی سرکاری واقعے کے ردعمل میں پیش آیا ہوگا۔ شاید ہمارے دوسرے مزاحمتی بھائیوں پر ہم سے بھی زیادہ مظالم ڈھائے جارہے ہیں یا ان کی بلوچ قومی تحریک سے وابستگی ہم سے زیادہ ہو۔ لیکن آپ یہ بھی تو دیکھیں کہ یہ پولیس اہل کار جس جگہ سے اغوا ہوئے تھے وہاں کیوں گئے تھے؟ ان کا مقصد یہ تھا کہ و ہ ان بلوچوں کے خلاف کارروائی کریں جو ان کی آزادی کی جنگ لڑر ہے ہیں۔ تمام بلوچوں کو پہلے بھی تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ پاکستان کی خدمت ترک کردیں۔ اس کے باوجود اغوا شدگا ن میں سے بہت سارے مزدوروں کو چھوڑ دیا گیا تھا۔

ہم شہری: اچھا تو اس کا مطلب ہے کہ آ پ بلوچستان میں ” ٹارگٹ کلنگ“ کی حمایت کرتے ہیں؟

;براہمداغ بگٹی: میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں ان واقعات کی حمایت کرتا ہوں لیکن میرا ایمان ہے کہ یہ واقعات کسی عمل کے ردعمل میں پیش آ رہے ہیں ۔ میں حیران ہوں کہ کیوں جب کوئی پنجابی نائی، دھوبی یا ٹیچر مار دیا جاتا ہے توپاکستان کا پورا میڈیا جاگ اٹھتا ہے لیکن جب سکیورٹی فورسز بلوچوں کے پورے دیہاتوں کو بمباری کرکے تہس نہس کر دیتے ہیں تو ان کے حق میں ایک خبر تک رپورٹ نہیں ہوتی ؟ کیا بلوچ انسان نہیں ہیں؟ کیا ان بے گناہ شہریوں کی فو ج کے ہاتھوں ٹارگٹ کلنگ نہیں ہور ہی؟ جب ہمارا سب کچھ تباہ کردیا جاتا ہے تو کیاہم ردعمل میں کچھ کرنے میں بھی حق بجانب نہیں ہیں؟ ہمارے پاس اور کیا چارہ باقی ہے؟ حیرت ہے کہ لوگ اس عمل پر تو خاموش ہیں اور ردعمل میں جو ہوتا ہے اس پر چلا اٹھتے ہیں۔

ہم شہری: اب جب کہ آپ کے کزن میر عالی بگٹی قبیلے کے نواب بن کر ڈیرہ بگٹی پہنچ چکے ہیں تو آپ کو کیا اعتراض ہے؟

براہمداغ بگٹی: تاریخی حوالے سے دیکھیں تو بھی بلوچستان میں حکومت بلوچوں کو آپس میں لڑا کر حکمرانی کرتی رہی ہے۔ میر عالی کا نواب بننا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔شروع شروع میں تو حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بلوچستان میں فوجی آپریشن کا خاتمہ کرے گی اور نقل مکانی کرنے والے بگٹیوں کو دوبارہ ڈیرہ بگٹی میں آباد کرے گی لیکن بے اختیار ہونے کی وجہ سے جب حکومت یہ نہ کر سکی تو انھوں نے میرعالی کو لاکر ڈیرہ بگٹی میں بیٹھا دیا۔ یہ بلوچستان کے مسئلہ کا کوئی دیرپا اور مثبت حل نہیں ہے۔ علاوہ ازیں ہم دیکھتے ہیں کہ میر عالی کو ڈیرہ بگٹی لے جانے کا تجربہ نا کام ثابت ہوگیا ہے اور یوں ان کے ڈیرہ بگٹی جانے کے بعد بھی حالات میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے بلکہ وہاں سیکورٹی فورسز اور بلوچ مزاحمت کاروں کی طرف سے حملے بدستور جاری ہیں۔ہر روز گیس پائپ لائن اڑائی جا رہی ہیں، سکیورٹی فورسز پر حملے جاری ہیں اور راکٹ باری و بمباری کا سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ اسی طرح حکومتی فورسز کی طرف سے پکڑ دھکڑ کا عمل متواتر جاری و ساری ہے۔ میرعالی خوف کی وجہ سے اپنے قلعے تک محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ اسے خود اپنے ہی قبائیلوں سے خوف آتا ہے جن کی نقل و حمل پر اس نے بڑی سختی سے پابندی لگائی ہے۔ اگر میر عالی کا واقعی ڈیر ہ بگٹی پر کنٹرول ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ علاقے میں اب امن ہو گیا ہے تو وہ آزاد میڈیا کو وہاں کیوں نہیں جانے دیتے ؟ میڈ یا کو چاہیے کہ وہ خود جاکر وہاں زمینی حقائق دیکھے جو کہ میر ے بیانات کی تائید کرتے ہیں کہ ڈیرہ بگٹی ا س وقت ایک ”نو گو ایر یا“ ہے۔

ہم شہری: آپ کے دادا نواب بگٹی نے اپنی زندگی میں ایک بلوچ قومی پارٹی کے قیام پر زور دیا تھا اور اب آپ پارلیمانی سیاست کے خلاف تحریک چلار ہے ہیں۔ ایساکیوں ہے کہ آپ کے طرز سیاست کی بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) اور نیشنل پارٹی حمایت نہیں کرتیں اور بلوچستان میں سنگل قومی پارٹی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا؟

براہمداغ بگٹی: میرے خیال میں اصل قوم پرستا نہ سیاست مسلح جدوجہد اور مزاحمت کی سیاست ہے۔ اگر اس وقت کوئی بلوچوں کی صیح معنوں میں ترجمانی کر رہا ہے تو یہ فریضہ وہ بلوچ سرانجام دے رہے ہیں جو پہاڑوں پر بلوچستان کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہمیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بی این پی اور نیشنل پارٹی ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ نواب بگٹی نے سنگل پارٹی کا جوخواب دیکھا تھا ” بلوچ نیشنل فرنٹ“ ( دس سے زائد بلوچ جماعتوں کا اتحاد جس کے براہمداغ بگٹی چیئر مین ہیں)کی صورت میں موجود ہے۔” فرنٹ “ پاکستان سے نجات اور آزاد بلوچستان کے لیے جدو جہد کررہا ہے۔ میری بلوچ قوم سے گزارش ہے کہ وہ مسلح گروہوں کی بھر پور حمایت کریں اور مزاحمتی راستہ اپنائیں کیوں کہ اسلام آباد بلوچوں کی شناخت ختم کرنے کے درپے ہے۔

ہم شہری: کیا بلوچستان کی موجودہ مزاحمتی تحریک میں مری اور بگٹی ایک ساتھ لڑرہے ہیں یا وہ علیحدہ علیحدہ جد وجہد کررہے ہیں؟

براہمداغ بگٹی:مری ہمارے بھائی ہیں، ہمارا اور ان کا بہت ہی پرانا تعلق رہا ہے ۔ ہمارے علاقے ایک دوسرے سے نزدیک ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں ایک مشترکہ دشمن کا سامنا ہے اسی لیے ہماری بقا اس بات میں ہے کہ ہم ایک دوسرے کے مزید قریب آئیں۔ لیکن میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہماری تحریک میں صرف مری اور بگٹی شامل نہیں بلکہ اس میں سارا بلوچستان شامل ہے۔ اس سال اپریل میں بلوچستان نیشنل موومنٹ کے چیئرمین غلام محمد بلوچ، ان کے رفقا لالہ منیر بلوچ اور شیر محمد بلوچ کو ایف سی نے اغوا کرکے ہلاک کردیا۔ ان افراد کا تعلق ایک ایسے علاقے سے ہے جہاں کوئی سردار یا نواب نہیں ہے۔ میں قبائلی نظام کا مخالف نہیں ہوں لیکن کہنے کا مقصد یہ ہے کہ آج تربت کا ضلع بھی اس تحریک میں ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کی طر ح پیش پیش ہے۔ آج پورا بلوچستان ہمارے ساتھ مل کر آزادی کا مطالبہ کر رہا ہے۔

humsheri

Comments
4 Responses to “I am not anti-tribalism: Bramdagh Bugti”
  1. gmcmissing says:

    thanks for sharing Sarmachar.

  2. Najeeb Qazi says:

    I compliment your efforts Sir….

Trackbacks
Check out what others are saying...
  1. […] I am not anti-tribalism: Bramdagh Bugti […]



Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: