Interview with BNP secretary general Habib Jalib


Jalib_II

بلوچستان میں فوجی آپریشن کے خاتمے، فورسز کے انخلا اور لاپتہ افراد کی بازیابی تک مذاکرات نہیں ہو سکتے

بلوچستان نیشنل پارٹی کے جنرل سیکرٹری حبیب جالب سے خصوصی انٹرویو

انٹرویو: ملک سراج اکبر

بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) بلوچستان کی سب سے بڑی قوم پرست جماعت سمجھی جاتی ہے۔ اس جماعت نے اگست 2006ء میں نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت کے بعد احتجاجاً قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ سے استعفیٰ دیا اور بعدازاں فروری 2008ء کے عام انتخابات کا بھی بائیکاٹ کیا۔ جنرل (ر)پرویز مشرف کے آمرانہ دور ِ حکومت میں پارٹی کے مرکزی صدر اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل کو گرفتار کر کے ایک سال سے زائد عرصہ تک کراچی کی ایک جیل میں ڈال دیا گیا ۔ بی این پی کے سینکڑوں کارکناں گرفتار کیے گئے ۔اس وقت کی حکومت نے جماعت کے کئی رہنماؤں کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹے مقدمات درج کیے، ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد اور نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیے گئے۔ ان تمام کارروائیوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ بی این پی اسلام آباد سے دور ہوتی گئی اور ایک معتدل جماعت جو عرصہ دراز سے صوبائی خودمختاری کا مطالبہ کرتی رہی ہے اب ایک ایسی جماعت بن گئی ہے جس کا مطالبہ ہے بلوچوں کو وہی” حق خود ارادیت “دیا جائے جو اسلام آباد کشمیریوں کے لیے مانگ رہا ہے۔ حکومت کی طرف سے بلوچستان کے مسئلے کو پر امن طریقے سے حل کرنے کی خاطر شرو ع کی گئی کوششو ں کے حوالے سے”ہم شہری“ نے بی این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور ممتاز بلوچ قوم پرست رہنما اور سابق سینیٹر حبیب جالب سے خصوصی نشست رکھی جو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔

ہم شہری: سینیٹر رضا ربانی کی قیاد ت میں بلوچستان کے حوالے سے جو کمیٹی بنی ہے اس کو بلوچستان نیشنل پارٹی کیسے دیکھتی ہے؟

حبیب جالب:ہم نے ذرائع ابلا غ کے توسط سے سینیٹر رضار بانی کی پندرہ نکاتی سفارشات دیکھی ہیں جو میرے خیال میں بے اختیار لوگوں کی بے ہنگم سی چند ایک محدود پیمانے پر سفارشات ہیں۔ ان میں درخواست کی گئی ہے کہ اگر یہ چند اقدامات ہوں تو بلوچستان میں حالات ساز گار ہوں گے، لیکن یہ وفاقی حکومت بے اختیار ہے کہ وہ بلوچستان کے” حقِ خود ارادیت “کے مسائل کو حل کرے۔ کیا ہماری پارلیمان اتنی بااختیار ہوچکی ہے کہ وہ ترامیم پاس کرکے صدر کے اختیارات میں کمی لائے، سینیٹ کو ” منی بل“ کے اختیارات اوردفاعی بجٹ پر بحث مباحثہ کرنے کے اختیار ات سے نوازے؟ ابھی تک ایسا کچھ بھی دیکھنے میں نہیں آیا ہے جس کو لے کر یہ یقین ہو کہ موجودہ حکومت مکمل طور پر با اختیار ہے جس کے ساتھ مل بیٹھ کر بلوچستان کی جماعتیں بات چیت کریں۔

ہم شہری: لیکن اس طرح کی آئیڈیل صورتحال تو اس وقت بھی نہیں تھی جب بی این پی اور دیگر بلوچ جماعتوں نے سینیٹر وسیم سجاد اور مشاہد حسین سید کی قیادت میں بننے والی پارلیمانی کمیٹی کے ساتھ بات چیت کرنے کی حامی بھرلی تھی۔

حبیب جالب: جس وقت ہم نے پارلیمان کی جانب سے بننے والی ایک کمیٹی کے ساتھ مذاکرات پررضامندی ظاہر کی تھی اس وقت حالات اتنے خراب نہیں تھے جتنے مشرف کے اقتدار کے آخری دنوں میں دیکھنے میں ملے۔ اس وقت سوئی میں فورسز کی اتنی بڑی تعداد داخل نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی ڈیرہ بگٹی میں فوجی آپریشن شروع کیا گیا تھا۔ نیز اس وقت بلوچ رہنماؤں نواب اکبر خان بگٹی اور بالاچ مری کو شہید نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن اب تو صورتحال یہ ہے کہ بلوچ زخمی ہیں۔ ہمارے ہزاروں لوگوں کو قتل، زخمی، گرفتار یا لاپتہ کیا گیا ہے اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔ ہمارے شہروں کو فرنٹیئر کور کے حوالے کیا گیا ہے جس کی وجہ سے اب لوگوں کی جانیں ، عزتیں اور مال محفوظ نہیں ہیں۔ یہ فورسز باقاعدہ طور پر ہمارے لوگوں پر حملہ آور ہوچکی ہیں۔ بھلا ان حالات میں کون حکومت کے ساتھ بات چیت کرے گا؟

ہم شہری:آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ بلوچستان میں ابھی تک معاملات فوج چلا رہی ہے؟

حبیب جالب: جی ہاں، بلوچستان حکومت بالکل بے اختیار ہے۔ یہ محض اپنی ساکھ بہتر کرنے یا لوگوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا نے کی خاطر مذاکرات کا شوشا چھوڑ رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ حکومت اس قدر بااختیار ہے کہ بلوچستان سے فوجی آپریشن کا خاتمہ کرے؟کیا یہ حکومت فوج کو دوبارہ مکمل طور پر بیرکوں میں بھیجنے اور پرویزمشرف اور اس کے ساتھیوں کے وارنٹ گرفتار ی جاری کرنے کی جرأت کر سکتی ہے؟ اس حکومت کے پاس اتنا اختیار ہی نہیں ہے کہ وہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرنے، ”گوادر میگا فراڈ“ کو منسوخ کرنے اور چھاوٴنیوں و چیک پوسٹس کے قیام کے خلاف سفارشات پر عمل درآمد کراسکے۔ آپ دیکھیں رضا ربانی نے جو سفارشات پیش کی ہیں وہ محض چند تجاویز ہیں نہ کہ کوئی گارنٹی کہ ان پر عمل درآمد بھی ہوگا جس کو لے کر بلوچوں کا اعتماد بحال ہو اور وہ مذاکراتی عمل کا حصہ بن جائیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ رضاربانی اور ان کی حکومت بے اختیار ہیں۔ اس نئی کمیٹی کا قیام وقت کے زیاں کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے اور نہ ہی ہم اس کی کامیابی کے حوالے سے کسی خوش فہمی کا شکار ہیں۔

ہم شہری: پاکستان پیپلز پارٹی نے مذاکرات یا آل پارٹیز کانفرنس یا رضا ربانی کمیٹی میں تجاویز دینے کی خاطر بلوچستا ن نیشنل پارٹی سے کسی طریقے سے باضابطہ طور پر رابطہ کیا ہے یا نہیں؟

eحبیب جالب: میں اپنی پارٹی کا مرکزی سیکرٹری جنرل ہوں اور مجھے تاحال ایسی کوئی دعوت نہیں ملی ہے اور نہ ہی کسی نے ہماری پارٹی کے کسی اور ذمہ دار رہنما سے اس سلسلے میں رابطہ کیا ہے۔

ہم شہری: لیکن اگر آپ کو باضابطہ کوئی دعوت دی جاتی ہے تو کیا پھر آپ حکومت کو اثبات میں جواب دیں گے؟

حبیب جالب: اگر ہمیں حکومت کی طرف سے ایسی کوئی دعوت دی جاتی ہے تو ہم اس کو اپنی جماعت کے سینٹرل کمیٹی کے اجلاس میں رکھیں گے جو یہ فیصلہ کرے گی کہ ہم اس مذاکراتی عمل کا حصہ بنیں یا نہیں۔ البتہ میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہماری پارٹی کی سینٹر ل کمیٹی کی ایک متفقہ قرارد اد پہلے ہی سے موجود ہے جس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہماری جماعت اسلام آباد کے ساتھ اس وقت تک کسی قسم کے مذاکراتی عمل کا حصہ نہیں بنے گی جب تک بلوچستان میں فوجی آپریشن کا خاتمہ ، فورسز کا انخلا اور لاپتہ افراد کی بازیابی عمل میں نہیں آ جاتی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ بلوچستان میں اقوام متحدہ کی پیس کیپنگ فورسزکو تعینات کیا جائے اور جارحیت کی مرتکب پاکستانی فورسز کو فی الفور نکال دیا جائے۔

ہم شہری: ماضی میں ہم نے دیکھا کہ آپ کی جماعت مسلسل صوبائی خود مختار ی کا مطالبہ کرتی رہی ۔ اب ہم آپ کے موٴقف میں واضح طو ر پر سختی دیکھتے ہیں ۔ کچھ عرصہ سے بی این پی بلوچوں کے لیے ”حقِ خود ارادیت “ کا مطالبہ کرتی آرہی ہے۔ اس سے آپ کا کیا مطلب ہے؟

حبیب جالب: حقِ خود ارادیت درا صل ایک سیاسی اصطلاح اور بہت بڑا جمہوری مطالبہ ہے جس کا تذکرہ اقوام متحدہ کے چارٹر میں ان مظلوم، محکوم ، غلام اور نوآبادیات کے تسلط میں رہنے والے ممالک کے بارے میں ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق دنیا کے جن علاقوں کو مظلوم اور غلام رکھا گیا ہے ان قوموں کو حق حاصل ہے کہ وہ کسی طرح سے بھی اپنا حقِ علیحدگی استعمال کرکے اپنی علیحدہ قومی ریاست کی تشکیل کا مطالبہ کریں اور انھیں یہ حق دیا گیا ہے کہ کسی بھی ریاست سے علیحدگی چاہنے کی صورت میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں وہاں ریفرنڈم کا انعقاد ممکن بنایا جائے۔ اس حق کی موجودگی کے باوجود دنیا کی بہت ساری محکوم و مظلوم ریاستوں نے اپنا یہ حق استعمال نہیں کیا جب کہ ہم سمجھتے ہیں کہ بلوچوں کے لیے اب یہ وقت آگیا ہے کہ وہ حق خود ارادیت کا مطالبہ کریں۔ اب حالات بدل گئے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وقت اور حالات نے ہمیں اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ بلوچستان میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک ریفرنڈم کرایا جائے تاکہ دیکھا جائے کہ بلوچ اس وقت کیا چاہتے ہیں۔ میر ے خیال میں جو لوگ اپنے آ پ کو اس ملک کے خالق اور پاسبان سمجھتے ہیں ان کی طرف سے بلوچوں کی جانب خلیج بہت زیادہ بڑھ گئی ہے ، نفرتیں ایک تناور درخت بن چکی ہیں اور اب بلوچوں کا اس ملک میں رہنا بہت مشکل ہوگیا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اب اس پل کو گرانے میں ان لوگوں کا ہاتھ ہے جو خود کو اس ملک کا اکلوتا مالک اور باقی قومیتوں کو اپنا غلام سمجھتے ہیں۔

ہم شہری: آپ کے لہجے سے ایسا لگ رہا ہے کہ آپ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت سے مایوس ہوگئے ہیں۔
حبیب جالب: پی پی پی تو بینظیر بھٹوکے پروگرام سے بھی نیچے جا گری ہے۔ حتیٰ کہ یہ حکومت بی بی کے قتل کے سلسلے میں پرویز مشرف کو گرفتار تک نہیں کرسکی۔ ہمارے معصوم بچوں پر MPO3کے تحت فوری طور مقدمہ درج کرکے انھیں جیلوں اور ٹارچر سیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ پرویز مشرف نے نواب اکبر بگٹی کو قتل کیا۔ ان کے دور ِ حکومت میں بالاچ مری کو مارا گیا۔ بینظیر بھٹو ان کے دور میں مار دی گئیں۔ مشرف نے اس ملک میں خون کی ندیاں بہا دیں، وفاق اور وحدتوں کے درمیان خلیج پیدا کی لیکن اس کے باوجود اس شخص کو کھلی چھوٹ دی گئی کہ وہ ملک سے با آسانی فرار ہو۔پی پی پی اب لوگوں کو روٹی کی جگہ بھوک، کپڑے کی جگہ کفن اور مکان کی جگہ جیلوں میں جگہ دینے میں لگی ہوئی ہے۔

ہم شہری: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کے حوالے سے صورتحال میں کوئی بہتری آئی ہے۔

حبیب جالب:جی نہیں، میں ایک پیشہ ور وکیل ہوں اور مجھے لوگوں سے روزانہ ملنے اور بات کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اپنے روزانہ کے روابط کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد میں آئے دنوں اضافہ ہورہا ہے۔ لوگ بدستور ہمارے پاس آکر کہتے ہیں کہ ہمارے بچوں یا عزیزوں کو سکیورٹی فورسز کے اہلکار اٹھارہے ہیں۔ چند دن پہلے میرے پاس کچھ لوگ آئے اور شکایت کی کہ ان کے گھرانے کے چھ لوگ ایک ٹرک کے ساتھ ” لاپتہ“ ہوگئے ہیں۔ مجھے حیر ت ہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس سنگین صورتحال پر خاموش کیوں ہیں اور اس مسئلے پر آواز کیوں نہیں اٹھاتیں؟
humsheri

Comments
One Response to “Interview with BNP secretary general Habib Jalib”
Trackbacks
Check out what others are saying...
  1. […] Interview with BNP secretary general Habib Jalib […]



Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: