FC checkposts to replace military cantonments in Balochistan


logo

بلوچستان میں فرنٹیئر کور کی تعیناتی اور امن و امان کی صورتحال

فوجی چھاوٴنیوں کے قیام کا فیصلہ واپس لینے پر قوم پرست جماعتوں کا محتاط ردِعمل

ملک سراج اکبر

وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم رئیسانی نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے ساتھ اسلام آباد میں ملاقات کرنے کے بعد یہ اہم خبر دی ہے کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کی مخلوط حکومت کے مطالبے پر صوبے میں فوجی چھاؤنیوں کے قیام کا فیصلہ ترک کر دیا ہے جو کہ بلوچستان کی کشیدہ صورت حال کو بہتر بنانے میں بڑی حد تک معاون ثابت ہوگا۔ بلوچستان میں سوئی، کوہلو اور گوادر کے علاقوں میں فوجی چھاؤنیوں کے قیام کا فیصلہ سابق صدر اور آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں کیا گیا تھا، البتہ صوبائی حکومت اور بلوچ رہنماؤں کو اس فیصلے کے حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا جس کا یہ نتیجہ نکلا کہ بلوچ قوم پرست رہنماؤں نے صوبے میں چھاوٴنیوں کی تعمیر کو فوجی آپریشن کے لیے راستہ ہموار کرنے کی سازش سے تعبیر کرتے ہوئے اس فیصلے کی شدید مخالفت کی۔ چھاوٴنیوں کے قیام کے سلسلے میں اختلافات اس قدر شدت اختیار کر گئے کہ بلوچستان میں بزور قوت فوج کو قومی تنصیبات کے تحفظ کا بہانہ بنا کر صوبے کے قدرتی وسائل سے مالامال علاقوں میں تعینات کیا گیا۔

سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ چوں کہ اس حوالے سے وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ فیصلہ کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ صوبے میں چھاوٴنیوں کے قیام کا فیصلہ واقعی واپس لے لیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں نے اس اعلان پر انتہائی محتاط طریقے سے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک وہ زمین پر کوئی تبدیلی نہیں دیکھیں گے تب تک حکومت کا اعتبار نہیں کریں گے ۔

دوسری طرف پاک فوج کے تعلقات عامہ کے ادارہ آئی ایس پی آر کے ترجما ن میجر جنرل اطہر عباس نے کہاہے کہ سوئی میں فوجی چھاؤنی کے بجائے فرنٹیئر کور ( ایف سی) کو تعینا ت کیا جائے گا۔

بلوچ علاقوں میں ایف سی کے خلاف نفرتیں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ بلوچوں کو شکایت ہے کہ ایف سی اہلکاروں نے گلی گلی کوچے کو چے میں چوکیاں قائم کی ہیں جہاں سے گزرنے والے ہر شخص کو روک کر اس کی تلاشی لی جاتی ہے اور کافی دیر تک غیر ضروری طور پر پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔ چند علاقوں سے یہ شکایات بھی آئیں کہ ایف سی اہلکاروں نے روایتی ”بگٹی شلوار“ پہننے والے نوجوانوں کی شلواریں قینچی سے کاٹ دیں ہیں۔ نیز جن جن موبائل فونز میں بلوچی گانے یا نواب اکبر بگٹی و دیگر بلوچ رہنماؤں کی تصاویر پائی گئیں وہ چھین لیے گئے۔

اگرچہ بنیادی طور پر ایف سی کی ذمہ داری سرحدی علاقوں میں اسمگلنگ کی روک تھام ہے لیکن کچھ عرصے سے اس وفاقی فورس کی سرگرمیاں بلوچستان میں اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ یہ پولیس سے بھی زیادہ چاک و چوبند ہوگئی ہے جس کی ذمہ داریوں میں اب لوگوں کو گرفتار کر نا، جلسے جلوسوں کو منتشر کرنا، جمہوری طور پر مظاہرے کرنے والے شہریوں پر آنسو گیس فائر کرنا، یوم آزادی پر قومی پرچم لہرانا، تعلیمی اداروں اور خاص کر جامعہ بلوچستان میں” ملک دشمن سرگرمیوں“ پر نظر رکھنا اور اخبارات کے دفاتر کا گھیراؤ کرکے ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں میں مداخلت کرنے جیسی عجیب و غریب ذمہ داریاں شامل ہیں۔

واضح رہے کہ ایف سی میں مقامی بلوچوں کی نمائندگی دو فیصد سے بھی کم ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں عدم نمائندگی کا احساس پایا جاتا ہے ۔ بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں ایف سی اور مقامی آبادی کے درمیان تعلقات انتہائی کشیدہ ہوگئے ہیں۔جہاں ایک طرف ایف سی اپنی افراد ی و تکینکی صلاحیتوں میں بہتری لارہی ہے تاکہ وہ بدستور بڑھتی ہوئی کشیدہ صورتحال پر قابو پالے تو ادھر دوسری طرف لوگوں کو گلہ ہے کہ ایف سی اہل کار انھیں دو سرے درجے کے شہری کا درجہ دیتے ہیں جس کی وجہ سے روز بروز نفرتوں میں اضافہ ہوتا جارہاہے۔

بلوچوں کا ایف سی کے خلاف غم و غصہ اس سال اپریل میں اس وقت انتہائی عروج پر پہنچا جب ان کے تین مقبول رہنما بشمول بلوچستان نیشنل موومنٹ کے مرکزی چیئرمین واجہ غلام محمد بلوچ کو ایف سی اہلکاروں نے ضلع تربت میں مبینہ طور پر بلوچستان کے سابق قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈو کیٹ کے لیگل چیمبر سے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ کچکول علی کے مطابق انھوں نے اس واقعے کے خلاف مقامی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے ایف سی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کردیا ۔ اسی طرح انھوں نے بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے بھی استد عا کی کہ وہ ان رہنماؤں کی گرفتار ی پر سو موٹو نوٹس لیں کیوں کہ ان کی زندگیوں کو خطرہ درپیش ہے لیکن عدالت کی جانب سے بھی اس مسئلے پر کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی اور یوں تینوں گرفتار شدہ بلوچ رہنماؤں کی مسخ شدہ لاشیں چند دن بعد تربت کے مضافات سے برآمد ہو ئیں ۔ بلوچ قوم پرست قیادت نے اس المناک واقعے کی براہ راست ذمہ داری ایف سی ، آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس پر ڈالی۔ تاہم کوئٹہ میں تعینات ایف سی کے انسپکٹر جنرل میجر جنرل سلیم نواز ان ”الزامات “کو بے بنیاد قرار دے کر یکسر ردکرتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس سلسلے میں عدالتی تحقیقاتی کمیشن قائم کی ہے جس کی رپورٹ ابھی تک آنا باقی ہے۔ بلوچ رہنماؤں نے اس عدالتی کمیشن کو مستر د کردیا ہے۔چھ مہینے گزرنے کے باوجود غلام محمد بلوچ، لالہ منیر بلوچ اور شیر محمد بلوچ کی ہلاکت پر بننے والی عدالتی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر نہ آسکی جس سے قوم پرستوں کے اس الزام کو تقویت ملتی ہے کہ حکومت واقعے کی تفتیش میں سنجیدہ نہیں ہے ۔

ایف سی نے بلوچستان میں اپنے آئینی اختیارات سے ایک بار پھر تجاوز اس وقت کیا جب اس کے اہل کاروں نے کوئٹہ سے نکلنے والے مشہور اخبار روزنامہ ”آساپ “کا محاصرہ کیااور اخبار کے سٹاف کو ہراساں کرنا شروع کردیا ۔ ایف سی نے اخبار کے معاملات میں اپنی مداخلت اس قدر بڑھا لی کہ مجبوراً اس اخبار کو دو ہفتوں بعد مستقل طور پر بند ہونا پڑا۔اخبار کے مدیر عابد میر کا کہنا ہے کہ بند وق کے سائے تلے اخبار میں کام کرنے والے نوجوان صحافیوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق تھا جس کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا کہ کسی سٹاف ممبر کو جانی نقصان پہنچنے سے بہتر ہے کہ اخبار ہی بند کیاجائے کیوں کہ جمہوری ہونے کا دعویٰ دار ہونے کے باوجود موجودہ حکومت کا رویہ بلوچستان کی حقیقی پریس کی جانب غیر جمہوری اور غیر منصفانہ ہے۔ بعدازاں اخبارات کو تنگ کرنے کا سلسلہ دو اور اخبارات روزنامہ ”آزادی“ اور ”بلوچستان ایکسپریس“ تک بڑھا دیا گیا اور ان دونوں اخبارات کے دفاتر کا مسلح محاصرہ شروع کر دیا۔ البتہ اس بار ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ، کراچی یونین آف جرنلسٹس اور ایشین ہیومن رائٹس کمیشن جیسے اداروں کی مداخلت اور مذمت کے بعد ایف سی کو مذکورہ دو اخبارات کا محاصر ہ ختم کرنا پڑا۔

صوبے میں ایف سی کا ایک اور تازہ محاذ تربت کے علاقے تمپ میں کھل گیا ہے جہاں بلوچ ری پبلکن آرمی سے تعلق رکھنے والوں نے ایف سی کی ایک ٹیم پر فائرنگ کرکے دو اہلکاروں کو ہلاک کردیا۔ آزاد ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگا ن کی تعداد سرکاری سطح پر تصدیق شدہ اعداد و شمار سے زیادہ تھی۔ تین ستمبر کو ہونے والے اس حملے میں ایف سی کی جوابی کارروائی سے ایک حملہ آور بھی ہلاک ہوگیا ۔ تاہم اس واقعے کے خلاف مقامی خواتین کی ایک بڑی تعداد نے تربت میں ایف سی کیمپ کے باہر مظاہرہ کیاجس کے جواب میں ایف سی اہلکاروں نے مظاہرین پر آنسو گیس پھینکی اور لاٹھی چارج کیا جس کے نتیجے میں کئی مظاہرین اور ایک مقامی صحافی ارشاد اختر شدید زخمی ہو گئے۔ علاقے میں حالات اس وقت مزید بگڑ گئے جب چھ ستمبرکو ایف سی نے ایک جلسے پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں مقامی کالج کے بیس سالہ طالب علم مختار بلوچ ہلاک اور کئی خواتین کو شدید زخمی ہو گئیں۔

بلوچستان میں امن و امان کے حوالے سے حالات خراب ہونے کی ایک سب سے بڑی وجہ صوبے کی اپنی ایک مستحکم و پیشہ ورانہ پولیس کی عدم موجودگی ہے۔ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور حکومت میں ان کے قریبی ساتھیوں نے انھیں یہ کہہ کر صدیوں پرانی لیویز فورس کو ختم کرنے کا مشورہ دیا کہ یہ سرداروں اور نوابوں کے زیر اثر رہنے والی فورس ہے، لہٰذا اسے پولیس میں ضم کیا جائے۔ اس سلسلے میں سابق حکومت کے دور میں خطیر رقم خرچ کرکے لیویز کو پولیس میں ضم کردیا گیا لیکن اس فیصلے کی حز ب اختلاف کی جماعتوں نے بہت مخالفت کی اور کہا کہ زیادہ تر غیر مقامی افراد پر مشتمل پولیس فورس مقامی افراد پر مشتمل لیویز فورس کے مقابلے میں جرائم پیشہ افراد سے موٴثر طریقے سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ۔ چناں چہ جب صوبے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی مخلو ط حکومت بنی تو حکومت نے سب سے پہلے بلوچستان اسمبلی کے فلور پر یہ قرارداد پاس کی کہ لیویز نظام کو ایک با ر پھر بحال کیا جائے۔ یوں صوبائی حکومت ایک با ر پھر پولیس کے خاتمے اور لیویز کی بحالی میں مشغول ہوگئی۔ یہ بلاشبہ ایک سیاسی فیصلہ تھا نہ کہ پیشہ ورانہ، جس کا براہ راست نقصان بلوچستان کی امن و امان کی صورت حال کو ہوا۔ جرائم پیشہ افراد جرم کا ارتکاب کرتے رہے اور سرکار اس بحث میں لگی رہی کہ ملزم کو گرفتار پولیس کرے یا لیویز۔ دونوں فورسز کے درمیان سرد جنگ شروع ہوگئی جو عدم تعاون و عدم اعتماد ی پر منتج ہوگئی اور یوں بلوچستان حکومت کو روز بروز بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔

جب صوبے میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعا ت میں شدت آئی تو پولیس اور لیویز دونوں سے مایوس حکومت بلوچستان کو ایف سی کی خدمات حاصل کرنا پڑیں۔ یوں کوئٹہ شہر اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بلاواسطہ ایف سی کو وہ ذمہ داری سونپ دی گئی جو کہ پولیس کے ذمہ ہونی چاہیے تھی۔ تاہم ایف سی کی تعیناتی بلوچستان کے مسائل کا دیر پا حل نہیں ہے بلکہ حکومت کو چاہیے کہ وہ پہلے یہ فیصلہ کرے کہ وہ صوبے میں امن و امان کی خاطر پولیس اور لیویز میں سے کس فورس کی خدمات حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس کے بعد اس فورس کی جدید تقاضوں کے مطابق ٹریننگ کروائی جائے۔ جہاں تک ایف سی کا تعلق ہے تو اس سے کسٹم ایکٹ کے اختیارات واپس لیے جائیں اور اسے دوبارہ سرحدی علاقوں میں تعینات کیا جائے تا کہ افغانستان کے علاقے ہلمند میں امریکی اور نیٹو افواج کے ساتھ بر سر پیکار طالبان اور ان کے حامیوں کو پاکستان کی سرحد عبور کرکے بلوچستان میں داخل ہونے سے روکا جائے جو کہ صوبے میں مزید بد امنی کا باعث بن سکتا ہے۔

Comments
3 Responses to “FC checkposts to replace military cantonments in Balochistan”
  1. Malook Bugti says:

    Siraj:
    It can not be forgetten that the people are being killed, being abducted, tortured and the death body thrown arbitrarily from mountains. dear, No can see these with their beloved. Therefore, the way of resistance is adopted as reaction. Newton,s Third Law is “Every action,but oppose direstion, has a reaction “

  2. nota says:

    Oh so nothing is gonna change. A thorn by any other name…

    Shame on Raisani for trying to sell it as “change.”

  3. Saad baloch, Pakistan occupied balochistan says:

    Mr Bughti u are completely right. BLA IS RIGHT. It NEVER initiated the war. Throwing from the mountain or throwing out of helicopters all is going on. Liberation is final solution.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: