ہزارہ نا ہونے کا ڈر


تحریر: ملک سراج اکبر

یہ بات صرف نا ماننے کی حد تک تو درست ہے کہ انسان پیدائشی طور پر خود غرض نہیں ہوتاورنہ ہم سب پیداہونے سے لے کر مرنے تک زندگی کے ہر موڈ پر خود غرض ہی ہوتے ہیں۔ خودغرض ہونا اچھی بات تو نہیں لیکن زندگی میں کچھ مواقع ایسے آہی جاتے ہیں جب انسان کو خود غرض بننا پڑتا ہے۔ کیا آپ اسے خود غرضی کہیں گے یا انسانی فطرت کہ اگر ایک شخص کلاشنکوف لےکر ایک بھرے کمرے میں داخل ہوجائے اور میں باقی لوگوں کی پروا کئے  بغیر ہی اپنی جان بچھانے کی خاطر وہاں سے بھاگ جاوں ؟ یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ آپ میرے بارے میں کیا رائے قائم کریں گے لیکن سچ تو یہ ہے کہ مجھے بس اسی بات پہ خوشی ہوگی کہ کم از کم میں نے اپنی زندگی تو بچالی باقی لوگ میرے بارے میں جو کہیں ان کی مرضی۔

کوئٹہ شہر( اور اب مستونگ سمیت دیگر اضلاع) میں ہزارہ برادری کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اس حوالے سے ہمارا رویہ بھی کچھ اسی طرح کا ہے۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ اسلام آباد والے ’’خوش‘‘ ہیں کہ مستونگ میں شعیہ زائرین کی بس پر ہونے والے حملے میں بیس سے زائد لوگ شہید ہوگئے لیکن بہت ساروں نے کم از کم اس بات پر سُکھ کا سانس تو لیا ہوگا کہ شکر ہے  یہ واقعہ اسلام آباد میں پیش نہیں آیا۔ کوئٹہ  میں لوگ یہ سوچ رہے ہونگے جو ہوا تو بہت بُرا ہوا لیکن شکر ہے کہ یہ حادثہ شہر کے باہر پیش آیا۔ بلوچ کہتے ہونگے ہم تو پہلے ہی سے مسخ شدہ لاشیں اٹھاتے اٹھاتے تھک گئے ہیں ،شکر ہے کہ یہ حملہ تو ہمارے بچوں پہ نہیں ہوا۔ میں یہ ہرگز نہیں کہہ رہا کہ مستونگ کے سانحے پر باقی لوگوں کو دکھ نہیں ہوا لیکن پورے صوبے میں نفسانفسی کا جو عالم ہے اس میں ہر انسان کے ذہن میں سب سے پہلے یہی بات آجاتی ہے کہ کیا وہ خود اور اس کا اہل خانہ محفوظ ہیں یا نہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ میں ہزارہ نہیں ہوں۔ شعیہ نہیں ہوں اور بلوچستان میں رہتا بھی نہیں ہوںلیکن پھر بھی جب بلوچستان میں شعیہ برادری پر کوئی حملہ ہوجاتا ہے میرے دل کی ڈھڑکنیں تیز ہوجاتی ہیں۔ مجھ پر ندامت اور خوف کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ ہرواقعہ کے بعد مجھے یوں لگتا ہے کہ یہ حملہ شعیہ ہزارہ پر نہیں بلکہ  بلوچستان کی سیکولر روایت پر ہے۔آج سے تیس سال پہلے بلوچستان میں ہندو، عیسائی، شعیہ ، ہزارہ، پارسی، احمدی، ذکری سمیت ہر مذہبی فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ بڑے سکون کے ساتھ رہتے تھے ۔ لوگوں کو ایک دوسرے  کے مذہبی عقائد کے بارے  میں سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔ لوگ مذہب کو ذاتی معاملہ سمجھتے تھے۔ کوئی کسی پہ زور نہیں ڈالتا تھا کہ وہ مسلمان ہوجائے یا مسجد میں تشریف لائے۔ انسانی جانوں کا نقصان بلاشبہ افسوس ناک ہے لیکن اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ امر کسی قوم اور خطے کی روایت اور تہذیب کا ملیا مٹ ہونا ہے۔ بلوچستان آج اپنی تاریخ کے اس دور پر پہنچ گیا ہے جہاں مذہبی رواداری تاریخ کا  حصہ بن چکی ہے اور انتہا پسندی سکہ رائج الوقت بن گئی ہے۔

اس معاشرے میں رہنے والے لوگوں کی طرح میں بھی خود غرض ہوں۔ میں شعیہ ہزارہ براداری کی کوئی مدد نہیں کرسکتا اور نا ہی ان پر مظالم ڈھانے والوں کو انصاف کے کہٹرے میں لاسکتا ہوں لیکن میں یہ کالم تو خود غرضی کی بنیاد پر لکھ رہاہوں کیونکہ انتہا پسندی کی یہ آگ خود میرے بلوچ علاقوں میں بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے۔جب زیارت کے لئے ایران جانے والے شعیہ محفوظ نہیں تو ہم  میں سے وہ لوگ جو کبھی حج کے لئے  مکہ نہیں گئے  کیونکر محفوظ رئیں گے؟ جب  حملہ آور شعیہ عورتوں اور بچوں پر ترس نہیں کھاتے تو ہمیں اور زیادہ ڈرنا چائیے کیونکہ ہم اور آپ تو انھیں ’’کافر‘‘ بھی نہیں مانتے۔

کچھ لوگ اس کا اعتراف نہیں کرتے کہ لشکر جھنگوئی کی صفوں میں اب بلوچ نوجوان بھی شامل ہوگئےہیں اور بلوچ اضلاع میں انھوں نے اپنے محفوظ ٹھکانے بھی قائم کر لئے ہیں ۔ مجھے بڑی شدت سے ڈر لگ رہا ہے کہ بلوچ معاشرہ اور نوجوان کس تیزی کے ساتھ مذہبی  انتہا پسندی کے اس دلدل میں پھنسائے جا رہے ہیں۔

ایک طرف سعودی عرب اور خلیجی ممالک سے آنے والے پیسہ اور اس سے قائم ہونے والے نئے مدارس و مساجد تو دوسری طرف جماعت الدعوۃ   کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں۔ پاکستان کے خفیہ ادارے بلوچستان میں قوم پرست تحریک کا مقابلہ کرنے کی خاطر مذہبی انتہا پسندی کو فرو غ تو دے رہے ہیں لیکن اس کی قیمت بہت بھاری ہے۔ جہاں ایک طرف معصوم ہزارہ شہید ہورہے ہیں وہاں دوسری طرف بلوچ علاقوں میں تبلیغ اور (زلزلہ کے متاثرین کے لئے ) امداد کی صورت میں جہادی اور فسادی جماعتیں  اپنی گرفت مضبوط کررہی ہیں۔ اس طوفان کو روکنے کی ضرورت ہے۔

آپ کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت یامکتبہ فکر سے ہوسکتا ہے لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ  بلوچستان میں بڑھتی ہوئی مذہبی شدت پسندی کی آگ صرف مستونگ، ہزارہ ٹاون، علمدار روڑ اور مری آباد تک محدود نہیں رہے گی۔ وزیراعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ نے اگر اس معاملے سے نمٹنے میں تاخیر کی تو ان کا اور ان کی جماعت کا وہی حشر ہوگا جو خیبر پختونخواہ میں عوامی نیشنل پارٹی اور اس کے رہنماوں کاہوا ۔فوج اور ایف سی اگر سمجھتی ہیں کہ بلوچ قوم پرستوں کا خاتمہ بلوچستان میں مذہبی شدت پسندی کی پروان چڑھانے سے ممکن  ہے تو کل کو وہ شکایت ناکریں جب انہی کی صفوں میں سے کسی کو اٹھا کر یہ شدت پسند اس کا وہی حشرکریں گے جو انھوں نے کرنل امام کا کیا تھا۔

بلوچ تنظیموں نے حالیہ مہینوںمذہبی عناصر کے حوالے سے جو پالیسی اپنائی ہوئی ہے وہ قابل تحسین ہے اور اسے برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ ماضی قریب میں سرمچاروں نے ان مذہبی جماعتوں کو دھمکی دی تھی کہ وہ بلوچ سرزمین پر اپنی سرگرمیاں ترک کریں اور جہاں سے آئی تھیں ادھر ہی چلی جائیں ۔ظاہر سی بات ہے کہ ان تمام فسادی عناصر کا تعلق پنجاب سے ہے اور جس طرح کے پرتشدد اسلام کی وہ تبلیغ کرتے ہیں اس سے ہم سرے سے واقف نہیں ہیں۔ یہ عناصر دراصل بلوچ معاشرے کے لئے منشیات فروشوں سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ یہ صرف ہزارہ برادری کے دشمن نہیں بلکہ ہماری تاریخ و تہذیب کے دشمن ہیں۔ہم سب کو ہزارہ نا ہونے کا ڈر رہنا چائیے ۔ کیونکہ(خدا نا کرے) جب ہماری سرزمین پر کوئی ہزارہ ، شعیہ باقی نہیں رہے گا تو یہ مذہبی انتہا پسند  ہمیں ہی ہزارہ، شعیہ سمجھ کر ہماری اور آپکی گردنیں کاٹنا شروع کردیں گے۔انھیں انسانی خون چوسنے کی عادت ہوگئی ہے۔ ہزارہ ، شعیہ کب تک ہمیں محفوظ رکھنے کے لئے اپنا خون دیتے رہیں گے؟آخرکار جب ہماری باری آئے گی تب شاید ہمارے لئے خون دینے کے لئے کوئی باقی نا رہے۔

بشکریہ: انکار

ملک سراج اکبرانگریزی اخبار، ’’دا بلوچ حال‘‘ کے بانی اور مدیراعلیٰ ہیں۔ انھیں ٹیوٹر پر فالو کرنے کے  لئے یہاں کلک کریں

 

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: